سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
166. بَابُ: وُضُوءِ الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ
باب: جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے۔
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 259]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے اور جنبی ہوتے تو سونے سے پہلے نماز والا وضو فرما لیتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 257 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 260
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ وضو کر لے“ (تو سو سکتا ہے)۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 260]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بشرطیکہ وضو کر لے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن الترمذی/الطھارة 88 (120)، (تحفة الأشراف: 8178، 10552)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 27 (289)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (585)، مسند احمد 2/ 17، 35، 36، 44، 102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه