سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
177. بَابُ: مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَالشُّرْبِ مِنْ سُؤْرِهَا
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَأَلْتُهَا: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ؟ قالت: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ".
شریح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا، آپ پانی مانگتے، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے، چنانچہ میں لے کر پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور پیتے، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 280]
حضرت شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا عورت حیض کی حالت میں اپنے خاوند کے ساتھ کھا پی سکتی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتی جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت والی ہڈی پکڑتے اور مجھے قسم دیتے کہ میں پہلے شروع کروں۔ میں اس سے کچھ گوشت نوچتی، پھر میں ہڈی رکھ دیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑتے اور اس سے نوچنا شروع فرما دیتے۔ اپنا دہنِ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی منگواتے اور پینے سے پہلے مجھے قسم دیتے کہ میں شروع کروں۔ میں پانی پکڑتی اور کچھ پانی پیتی، پھر رکھ دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑتے اور پینا شروع فرما دیتے۔ اور اپنا دہنِ مبارک پیالے کی اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: آپ ایسا اظہار محبت اور بیان جواز کے لیے کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، فَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ سُؤْرِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ (برتن میں) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں (منہ لگا کر) پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا جوٹھا پیتے، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 281]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا تھا، پھر مجھ سے بچا ہوا پانی نوش فرماتے، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح