🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 289
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» (البقرہ: ۲۲۲) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 289]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی قوم میں جب کسی عورت کو حیض شروع ہوتا تو وہ اس کے ساتھ مل جل کر کھاتے نہ پیتے تھے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى﴾ [سورة البقرة: 222] یہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے: وہ گندی چیز ہے…… تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ مل جل کر کھائیں پئیں اور گھروں میں ان کے ساتھ رہیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کی محبت پیار کریں، سوائے جماع کے (کہ وہ حرام ہے)۔ یہودی کہنے لگے: یہ رسول ہماری ہر چیز میں مخالفت کرتا ہے، تو حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس بات کی خبر دی، پھر کہنے لگے: کیا ہم حیض کی حالت میں ان کے ساتھ جماع بھی نہ کرلیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سختی سے بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوگئے ہیں، چنانچہ وہ دونوں اٹھ کر چلے گئے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور انھیں واپس بلوایا اور انھیں دودھ پلایا تو وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2977)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644)، (تحفة الأشراف: 308)، مسند احمد 3/132، 246، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1093)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 8، باتم مما ھنا (برقم: 369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں