سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
183. بَابُ: مَا تَفْعَلُ الْمُحْرِمَةُ إِذَا حَاضَتْ
باب: محرم عورت جب حائضہ ہو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 291
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كَانَ بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" هَذَا أَمَرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنَّ لَا بِالْبَيْتِ، وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمیں صرف حج کرنا تھا، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟ حائضہ ہو گئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کر دیا ہے، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا“، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 291]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا ارادہ حج ہی کا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ سرف پر تھے تو مجھے حیض شروع ہو گیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟ کیا تمہیں حیض شروع ہو گیا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے، لہٰذا جو کچھ حاجی کریں، وہی تم بھی کرو، صرف بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس حج میں) اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 7 (294)، الحج 33 (1560)، و 81 (1650)، العمرة 9 (1788)، الأضاحي 3 (5548)، 10 (5559)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/فیہ 23 (1782)، سنن ابن ماجہ/فیہ 36 (2963)، مسند احمد 6/39، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 349، 2742، 2993، (تحفة الأشراف: 17482) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه