سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. بَابُ: نَوْعٍ آخَرَ مِنَ التَّيَمُّمِ وَالنَّفْخِ فِي الْيَدَيْنِ
باب: تیمم کے ایک دوسرے طریقے کا اور دونوں ہاتھوں پر پھونک مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قال: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رُبَّمَا نَمْكُثُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ وَلَا نَجِدُ الْمَاءَ فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا، فَإِذَا لَمْ أَجِدِ الْمَاءَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَتَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ كُنْتَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ نَرْعَى الْإِبِلَ، فَتَعْلَمُ أَنَّا أَجْنَبْنَا؟ قال: نَعَمْ، أَمَّا أَنَا فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ الصَّعِيدُ لَكَافِيكَ، وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَبَعْضَ ذِرَاعَيْهِ". فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ لَمْ أَذْكُرْهُ، قَالَ: وَلَكِنْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، (تو ہم کیا کریں؟) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 317]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! بسا اوقات ہم ایک ایک، دو دو مہینے گزار دیتے ہیں اور پانی نہیں ملتا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو جب پانی نہیں پاتا، نماز نہیں پڑھتا حتیٰ کہ پانی پا لوں۔“ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے کہ جب آپ فلاں جگہ میں تھے اور ہم اونٹ چرا رہے تھے تو آپ کو علم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں!“ چنانچہ میں تو مٹی میں خوب لتھڑا تھا، پھر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ ہنسے اور فرمایا: ”تحقیق تجھے (اتنی ہی) مٹی کافی تھی۔“ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہتھیلیاں ماریں، پھر ان میں پھونکا، پھر وہ ہاتھ اپنے چہرے اور کچھ بازوؤں پر مل لیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے عمار! اللہ سے ڈر۔“ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں یہ واقعہ ذکر نہ کروں۔“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، ہم تمہیں ذمہ دار بناتے ہیں، اس چیز کا جس کے تم ذمہ دار بنے ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 313 (صحیح) (دون ذراعیہ، والصواب ”کفیہ‘‘ کما في الروایة التالیة)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الذراعين والصواب كفيه
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح