سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
206. بَابُ: فِيمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَلاَ الصَّعِيدَ
باب: پانی اور مٹی دونوں نہ ملے تو آدمی کیا کرے؟
حدیث نمبر: 324
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَنَاسًا يَطْلُبُونَ قِلَادَةً كَانَتْ لِعَائِشَةَ نَسِيَتْهَا فِي مَنْزِلٍ نَزَلَتْهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسُوا عَلَى وُضُوءٍ وَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ". قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ (آرام کرنے کے لیے) اتری تھیں، (اسی اثناء میں) نماز کا وقت ہو گیا، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں (کہیں) پانی ملا، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے (ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ دوسرے لوگوں کو عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہار کی تلاش میں بھیجا جسے وہ اپنی منزل میں بھول گئی تھیں۔ نماز کا وقت ہو گیا جبکہ ان (لوگوں) کا وضو نہیں تھا۔ وہ پانی نہ پا سکے تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ پھر انہوں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتار دی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ پسند نہ کرتی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے خیر رکھ دی۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة123 (317)، (تحفة الأشراف 17205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 325
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَصَبْتَ، فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى"، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ.
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 325]
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا (اور اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے ٹھیک کیا۔“ ایک اور آدمی جنبی ہو گیا تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی۔ وہ آپ کے پاس آیا تو اسے بھی آپ نے وہی کہا جو دوسرے کو کہا تھا، یعنی ”تو نے ٹھیک کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 4982)، ویاتی عندالمؤلف برقم 435 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح