سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَالشُّرْبِ مِنْ سُؤْرِهَا
باب: حائضہ کو اپنے ساتھ کھلانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 377
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، كَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ".
شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 377]
حضرت شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا عورت حیض کی حالت میں اپنے خاوند کے ساتھ کھا سکتی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے، میں حیض کی حالت میں آپ کے ساتھ کھاتی۔ آپ ایک (گوشت والی) ہڈی پکڑتے، پھر مجھے قسم دیتے، میں اس سے کچھ گوشت نوچتی، پھر اسے رکھ دیتی تو آپ اٹھا لیتے اور اسے نوچنا شروع کر دیتے اور اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا۔ اسی طرح پانی منگواتے اور پینے سے پہلے مجھے قسم دیتے (کہ میں پہلے پیوں) میں پکڑتی اور کچھ پانی پیتی، پھر میں رکھ دیتی تو آپ اٹھا لیتے اور اس سے پیتے اور اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 378
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، وَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ شَرَابِي وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 378]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک اس جگہ رکھتے جہاں سے میں نے پیا تھا اور میرے بچے ہوئے پانی سے پیتے تھے، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح