سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: الاِغْتِسَالِ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ
باب: آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَصَلَّى الضُّحَى، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”وہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے اور انہوں نے (فاطمہ بنت رسول) ایک کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پردہ کر رکھا تھا اور پانی والے پیالے (برتن) میں گندھے ہوئے آٹے کے نشان تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صَلَاةُ الضُّحٰى» ”نمازِ چاشت“ پڑھی۔ میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 18009)، مسند احمد 6/341 (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ’’فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم226)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملك فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان ركعات بعضها في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن