سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. بَابُ: الاخْتِلافُ عَلَى بُكَيْرٍ
باب: بکیر سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ (جا کر) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 439]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں پوچھیں (انہوں نے پوچھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو۔“ امام ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ”مخرمہ نے اپنے والد (بکیر) سے کوئی حدیث نہیں سنی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 436 (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ) (مخرمہ کا اپنے باپ ’’بکیر‘‘ سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنا ذکر (عضو خاص) دھولے، پھر وضو کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 436، و بإرسالہ تفرد المؤلف۔ (’’سلیمان بن یسار‘‘ اور ’’علی رضی اللہ عنہ“ کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب جاتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے خود آپ سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی یہ صورت پائے تو وہ اپنی شرم گاہ دھوئے اور نماز والا وضو کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 156 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث میں مخرمہ بن بکیر نے اسے بواسطہ بکیر عن سلیمان بن یسار عن ابن عباس روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں لیث بن سعد نے بکیر عن سلیمان بن یسار مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطہ کے روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر ہے، تیسری روایت کی سند میں بکیر کا ذکر نہیں ہے، غالباً مصنف نے اسے نضح والی روایت کی تائید میں یا دونوں روایتوں کی تقویت کے لیے ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں انقطاع ہے، پہلی میں اس لیے کہ مخرمہ کا سماع اپنے باپ سے نہیں اور دوسری مرسل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (156) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323