سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قال: رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ" أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى يَعْنِي الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ". ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ بِهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی، اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی، اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ان کے ساتھ اسی جگہ میں ایسا ہی کیا، اور ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھی) اس جگہ میں ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
سلمہ بن کہیل سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت سعید بن جبیر کو مزدلفہ میں دیکھا، انہوں نے اقامت کہی اور مغرب کی نماز تین رکعت پڑھی، پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر انہوں نے ذکر کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس جگہ ان کو ایسے ہی نمازیں پڑھائیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 47 (1288)، سنن ابی داود/الحج 65 (1930، 1931)، سنن الترمذی/الحج 56 (888)، (تحفة الأشراف: 7052)، مسند احمد 1/280، 2/3، 33، 59، 62، 79، 81، سنن الدارمی/الصلاة 183 (1559، 1560)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 484، 485، 607، 658، 3033 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مزدلفہ کو «جمع» اس لیے کہتے ہیں کہ آدم و حوّا جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو اسی مقام پر دونوں جمع ہوئے، یا مغرب اور عشاء دونوں نمازیں یہاں جمع کی جاتی ہیں اس لیے اسے «جمع» کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم