سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ
باب: فجر کے بعد نماز سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد (بھی) یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 562]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر (کی نماز) کے بعد نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح (کی نماز) کے بعد بھی نماز سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 51 (825)، (تحفة الأشراف: 13966)، موطا امام مالک/القرآن 10 (48)، مسند احمد 2/462، 496، 510، 529 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور وہ میرے نزدیک سب سے محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۱؎، اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 563]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے بہت سے اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان سب میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کی نماز کے بعد بھی نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 30 (581)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (826)، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1276)، سنن الترمذی/الصلاة 20 (183)، سنن ابن ماجہ/إقامة 147 (1250)، (تحفة الأشراف: 10492)، مسند احمد 1/ 18، 20، 39، 50، 51، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1473) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بخاری کی روایت میں «حتى ترتفع الشمس» ہے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ طلوع (نکلنے) سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے، اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه