🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الأَذَانِ
باب: اذان کے بعد نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر درود (صلاۃ) بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 679
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عَلْقَمَةَ، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ وَصَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ و سلام ۱؎ بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ ۲؎ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 679]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو جس طرح وہ کہے اسی طرح تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود پڑھو۔ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمت نازل فرمائے گا، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مقامِ وسیلہ کا سوال کرو۔ یہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے سب بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لائق ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا، لہٰذا جو شخص میرے لیے مقامِ وسیلہ کی دعا کرے گا اس کے لیے میری شفاعت لازم ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 7 (384)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (523)، سنن الترمذی/المناقب 1 (3614)، (تحفة الأشراف: 8871)، مسند احمد 2/168، وفی الیوم واللیلة (45) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صلاۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے معنی رحمت و مغفرت کے ہیں، اور فرشتوں کی طرف ہو تو مغفرت طلب کرنے کے ہیں، اور بندوں کی طرف ہو تو دعا کرنے کے ہیں۔ ۲؎: وسیلہ کے معنی قرب کے، اور اس طریقہ کے ہیں جس سے انسان اپنے مقصود تک پہنچ جائے، یہاں مراد جنت کا وہ درجہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ ۳؎: بشرطیکہ اس کا خاتمہ ایمان اور توحید پر ہوا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں