سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: اتِّخَاذِ الْبِيَعِ مَسَاجِدَ
باب: گرجا گھروں کو مساجد بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 702
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ، وَأَمَرَنَا، فَقَالَ:" اخْرُجُوا، فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا". قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ، فَقَالَ:" مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا"، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ، قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ، قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں (جانے) کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا (کلیسا) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا“، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی“ ؛ چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آ گئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 702]
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنی قوم کے وفد کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں اور ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ہمارا ایک گرجا ہے اور ہم نے آپ سے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، پھر وضو کیا اور کلی کی، پھر اس (پانی) کو ایک چھاگل میں انڈیل دیا اور فرمایا: ”جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ یہ پانی چھڑک دینا اور اس جگہ کو مسجد بنا لینا۔“ ہم نے کہا کہ ہمارا علاقہ بہت دور ہے اور گرمی سخت ہے، یہ پانی (وہاں پہنچتے پہنچتے) خشک ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور پانی ملا لیا کرنا، بلاشبہ اس سے اس کی پاکیزگی ہی میں اضافہ ہوگا۔“ ہم واپس چلے حتیٰ کہ جب اپنے علاقے میں پہنچے تو ہم نے اپنا گرجا توڑ دیا، پھر اس کی جگہ وہ مبارک پانی چھڑکا اور اس جگہ مسجد بنا لی، پھر ہم نے اس میں اذان کہی۔ اس گرجے میں قبیلۂ بنو طے کا ایک آدمی راہب (کے طور پر رہتا) تھا۔ جب اس نے اذان سنی تو کہنے لگا: ”یہ سچی دعوت ہے“، پھر وہ ایک ٹیلے کی طرف گیا اور اس کے بعد ہمیں نظر نہ آیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5028) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح