🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ: نَبْشِ الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ أَرْضِهَا مَسْجِدًا
باب: قبروں کو اکھیڑنے اور ان کی جگہ مسجد بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُرْضِ الْمَدِيِنَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَدِيفَهُ وَمَلَأٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خَرِبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ وَبِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ، يَقُولُونَ:" اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کر دیئے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 703]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ مدینہ منورہ کے ایک کنارے (قباء میں) ایک قبیلے میں اترے جنھیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔ آپ ان میں چودہ راتیں ٹھہرے، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہیں اور بنو نجار کے سردار آپ کے ارد گرد ہیں حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے پڑاؤ ڈالا۔ (شروع شروع میں) آپ کو جہاں نماز کا وقت ہو جاتا تھا، نماز پڑھ لیتے تھے۔ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا۔ وہ آئے تو آپ نے فرمایا: اے بنو نجار! مجھ سے اپنے اس احاطے کا بھاؤ (قیمت) کرو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس احاطے میں مشرکوں کی قبریں تھیں، کچھ ویرانہ (کھنڈر) تھا اور کھجوروں کے درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکوں کی قبریں اکھیڑ دی گئیں، درخت کاٹ دیے گئے اور ویرانے ہموار کر دیے گئے۔ انہوں نے مسجد کے قبلے والی جانب کھجور کے درختوں کی لائن لگا دی اور پتھروں کی چوکھٹ بنائی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پتھر اٹھاتے تھے اور رجز (شعر) پڑھتے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، وہ (سب) کہتے تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الآخِرَهْ، فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالمُهَاجِرَهْ» اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا کوئی خیر نہیں، انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، فضائل المدینة 1 (1868)، فضائل الأنصار 46 (3932)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن ابی داود/الصلاة 12 (453، 454)، سنن ابن ماجہ/المساجد 3 (742)، (تحفة الأشراف: 1691)، مسند احمد 3/118، 123، 180، 211، 212، 244 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں