🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ:
باب: جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ میں ایک برس کی اونٹنی دینا ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1453
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ فَرِيضَةَ الصَّدَقَةِ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ".
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس فرض زکوٰۃ کے ان فریضوں کے متعلق لکھا تھا جن کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے۔ یہ کہ جس کے اونٹوں کی زکوٰۃ جذعہ تک پہنچ جائے اور وہ جذعہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے زکوٰۃ میں حقہ ہی لے لیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ دو بکریاں بھی لی جائیں گی ‘ اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو ورنہ بیس درہم لیے جائیں گے۔ (تاکہ حقہ کی کمی پوری ہو جائے) اور اگر کسی پر زکوٰۃ میں حقہ واجب ہو اور حقہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی لے لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا زکوٰۃ دینے والے کو بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور اگر کسی پر زکوٰۃ حقہ کے برابر واجب ہو گئی اور اس کے پاس صرف بنت لبون ہے تو اس سے بنت لبون لے لی جائے گی اور زکوٰۃ دینے والے کو دو بکریاں یا بیس درہم ساتھ میں اور دینے پڑیں گے اور اگر کسی پر زکوٰۃ بنت لبون واجب ہو اور اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے لے لیا جائے گا اور اس صورت میں زکوٰۃ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں زکوٰۃ دینے والے کو دے گا اور کسی کے پاس زکوٰۃ میں بنت لبون واجب ہوا اور بنت لبون اس کے پاس نہیں بلکہ بنت مخاض ہے تو اس سے بنت مخاض ہی لے لیا جائے گا۔ لیکن زکوٰۃ دینے والا اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1453]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہ فرائضِ زکات لکھ کر دیے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا (وہ احکام یہ تھے:) جس کے اونٹ اس تعداد کو پہنچ جائیں کہ ان کی زکات چار سالہ اونٹ کا بچہ ہو جبکہ اس کے پاس چار سالہ بچہ نہ ہو بلکہ تین سالہ ہو، تو اس سے تین سالہ بچہ لے لیا جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں بھی لے لی جائیں گی بشرط یہ کہ آسانی سے میسر ہوں، بصورتِ دیگر بیس درہم وصول کر لیے جائیں۔ اور جس کے ذمے تین سالہ بچہ ہو لیکن اس کے پاس تین سالہ کے بجائے چار سالہ ہو، تو اس سے چار سالہ وصول کر لیا جائے اور صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے۔ اور اگر زکات میں تین سالہ بچہ فرض ہو اور اس کے پاس تین سالہ کے بجائے دو سالہ مادہ بچہ ہو، تو وہی قبول کر لیا جائے اور وہ (مال کا مالک) مزید اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے۔ اور اگر زکات میں دو سالہ مادہ بچہ واجب ہو اور اس کے پاس تین سالہ بچہ موجود ہو، تو صدقہ وصول کرنے والا وہی لے کر بیس درہم یا دو بکریاں (مال کو) واپس کر دے۔ اگر زکات میں دو سالہ بچہ واجب ہو اور اس کے پاس دو سالہ کی بجائے ایک سالہ مادہ بچہ ہو، تو وہی قبول کر لیا جائے لیکن وہ (مالکِ مال) اس کے ہمراہ بیس درہم یا دو بکریاں مزید دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں