سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: اسْتِخْلاَفِ الإِمَامِ إِذَا غَابَ
باب: امام کا اپنی عدم موجودگی میں کسی کو اپنا نائب بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 794
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قال سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ:" يَا بِلَالُ، إِذَا حَضَرَ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَلَمَّا حَضَرَتْ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَقَدَّمْ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَعَلَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى أَبُو بَكْرٍ التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ امْضِهْ، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبَيْهِ فَتَأَخَّرَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ"، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلنَّاسِ:" إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ النِّسَاءُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں آپس میں لڑائی ہوئی، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر ان کے پاس آئے تاکہ ان میں صلح کرا دیں، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! جب عصر کا وقت آ جائے اور میں نہ آ سکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں“، چنانچہ جب عصر کا وقت آیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آگے بڑھیے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اور نماز پڑھانے لگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ۱؎ یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ نماز شروع کر دیتے تو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتے، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ برابر تالی بج رہی ہے تو وہ متوجہ ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ”تم نماز جاری رکھو“، تو اس بات پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا، پھر وہ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چل کر پیچھے آ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا: ”ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”جب تمہیں نماز کے اندر کوئی بات پیش آ جائے، تو مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتیں تالی بجائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 794]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف میں لڑائی جھگڑا ہو گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ان میں صلح کروانے تشریف لے گئے، پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ آسکوں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔“ جب نماز کا وقت ہو گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آگے تشریف لائیے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نماز شروع کر دی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ لوگوں میں سے گزرتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کر لیتے تھے تو ادھر ادھر توجہ نہ فرماتے تھے۔ لیکن جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ تالیاں رک ہی نہیں رہیں تو انہوں نے توجہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس (حالی) فرمان پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا، پھر الٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے ہٹ آئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”اے ابوبکر! تجھے کون سی چیز مانع ہوئی کہ تو نے جماعت جاری نہ رکھی جبکہ میں نے تجھے اشارہ کر دیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے مناسب نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرائے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”جب تمہیں (امام کو متوجہ کرنے کی) کوئی ضرورت پیش آئے تو مرد «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 36 (7190)، سنن ابی داود/الصلاة 173 (941)، مسند احمد 5/332، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1404)، تحفة الأشراف: 4669) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صفوں کو چیر کر اندر داخل ہونا درست نہیں، پھر یا تو امام کے لیے یہ جائز ہو، یا پھر آپ نے پہلی صف میں خالی جگہ دیکھی ہو اُسے پُر کرنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح