سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: مَوْقِفِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومُ صَبِيٌّ
باب: مقتدی بچہ ہو تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ بِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 807]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اپنی خالہ سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) کے ہاں رات گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز (تہجد) پڑھنے کے لیے اٹھے تو میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے مجھے اس طرح سر سے پکڑا اور دائیں طرف کھڑا کر لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 59 (699)، تحفة الأشراف: 5529)، مسند احمد 1/360، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الوضوء 5 (138)، الأذان 57 (697)، 79 (728)، الوتر 1 (992)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، مسند احمد 1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 365، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري