سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: كَيْفَ يُقَوِّمُ الإِمَامُ الصُّفُوفَ
باب: امام صفیں کیسے درست کرے؟
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 811]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو ایسے سیدھا فرماتے تھے جیسے تیر سیدھے کیے جاتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے آگے نکلا ہوا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”یقیناً تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے ورنہ اللہ تعالیٰ ضرور تمہارے چہروں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن ابی داود/الأذان 94 (663، 665)، سنن الترمذی/الصلاة 53 (227)، سنن ابن ماجہ/إقامة 50 (994)، (تحفة الأشراف: 11620)، مسند احمد 4/270، 271، 272، 276، 277 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، مطلب ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا جس کی وجہ سے تمہارے اندر تفرق و انتشار عام ہو جائے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے اس کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انہیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ:" لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۱؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے، اور فرماتے: ”اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں“ ۳؎ نیز فرماتے: ”اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 812]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تکبیر تحریمہ کہنے سے قبل) ایک سرے سے دوسرے سرے تک صفوں کے درمیان چلا کرتے تھے۔ ہمارے کندھوں اور سینوں کو ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر سیدھا کرتے اور فرماتے تھے: ”آگے پیچھے کھڑے نہ ہو ورنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہو جائیں گے (ان میں پھوٹ پڑ جائے گی)۔“ اور فرماتے تھے: ”تحقیق اللہ تعالیٰ اگلی صفوں کے لیے خصوصی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے خصوصی رحمتیں طلب کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 94 (664)، (تحفة الأشراف: 1776)، مسند احمد 4/285، 296، 297، 298، 299، 304، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ۲؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ۳؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح