🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. بَابُ: خُرُوجِ الرَّجُلِ مِنْ صَلاَةِ الإِمَامِ وَفَرَاغِهِ مِنْ صَلاَتِهِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ
باب: مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 832
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ قال: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ مُعَاذٍ فَطَوَّلَ بِهِمْ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ مُعَاذٌ: لَئِنْ أَصْبَحْتُ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَى مُعَاذٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمِلْتُ عَلَى نَاضِحِي مِنَ النَّهَارِ فَجِئْتُ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا فَطَوَّلَ فَانْصَرَفْتُ فَصَلَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کر دی، تو وہ شخص (نماز توڑ کر) الگ ہو گیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر (تنہا) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر (کھیت کی) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی، اور (قرآت) لمبی کر دی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 832]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصاریوں میں سے ایک آدمی آیا جب کہ جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ وہ مسجد میں آیا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا۔ انہوں نے نماز لمبی کر دی۔ وہ آدمی (صفوں سے) نکل گیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھی، پھر چلا گیا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہیں بتایا گیا کہ فلاں شخص نے ایسے ایسے کیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے صبح نصیب ہوئی تو میں یہ بات ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں گا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا: تجھے کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سارا دن اونٹ پر پانی ڈھوتا رہا۔ میں آیا تو جماعت کھڑی تھی۔ میں مسجد میں داخل ہوا اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا تو انہوں نے فلاں فلاں سورت (سورۃ البقرہ) شروع کر دی اور بہت لمبی قراءت کی۔ میں نے نماز توڑ کر مسجد کے ایک کونے میں الگ نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈال رہا ہے؟ اے معاذ! کیا تو لوگوں کو سخت تکلیف میں مبتلا کر رہا ہے؟ اے معاذ! کیا تو لوگوں کو آزمائش میں ڈال رہا ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6106)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (599)، 127 (790)، سنن ابن ماجہ/إقامة 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2237، 2582)، مسند احمد 3/299، 308، 369، سنن الدارمی/الصلاة 65 (1333)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 985 مختصراً، 998 مختصراً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگوں کو پریشان کرتے ہو کہ وہ مجبور ہو کر نماز توڑ دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں