سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ: الْجَمَاعَةُ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 846
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 846]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”صفیں سیدھی کرو اور آپس میں مل کر کھڑے ہو، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 815 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور جماعت کے وقت اللہ کی مشیئت سے ہوتا تھا، یہ حدیث نُسّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، باب سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے، اور بقول علامہ پنجابی: یہ بعض نسخوں کے اندر ہے بھی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 847
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَاسْمُهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ بِلَالٌ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ فَاضْطَجَعُوا فَنَامُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ:" يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ" قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ فَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ قُمْ يَا بِلَالُ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِ" فَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَتَوَضَّئُوا يَعْنِي حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (سفر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ“، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سب کی نگرانی کروں گا، چنانچہ سب لوگ لیٹے، اور سب سو گئے، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی، (اور وہ بھی سو گئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلال! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے، بلال اٹھو! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو“ ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اذان دی، پھر لوگوں نے وضو کیا، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 847]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر میں) تھے، کسی شخص نے کہا: ”اگر آپ ہمیں آرام کا موقع عطا فرمائیں (تو کیا ہی اچھا ہو۔)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خطرہ ہے کہ تم نماز سے سوئے رہ جاؤ گے۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہارا خیال رکھوں گا۔“ وہ لیٹ کر سو گئے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پشت کی ٹیک اپنی سواری سے لگا لی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کا کنارہ طلوع ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کدھر گئی تمہاری بات؟“ انہوں نے عرض کیا: ”آج جیسی نیند تو مجھے کبھی نہیں آئی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب چاہا تمہاری روحوں کو قبض فرما لیا اور جب چاہا انہیں واپس کر دیا۔ اے بلال! اٹھو لوگوں کو نماز کی اطلاع دو۔“ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اٹھے اور اذان کہی، پھر سب نے وضو کیا جب کہ سورج اونچا آ چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور انہیں نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 35 (595)، التوحید 31 (7471) (مختصراً علي قولہ: إن اللہ إذا الخ)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 11 (439، 440)، (تحفة الأشراف: 12096)، مسند احمد 5/307 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح