سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: تَرْكِ قِرَاءَةِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ الفاتحہ میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کی قرأت چھوڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 910
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ"، فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" حَمِدَنِي عَبْدِي" يَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ:" مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَهَؤُلَاءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ".
ابوسائب مولی ہشام بن زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں“، میں نے پوچھا: ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو (کیسے پڑھوں؟) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا، اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سورۃ فاتحہ پڑھو، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے ۲؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد (تعریف) کی، اسی طرح جب بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی، جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی، اور جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے، اور جب بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 910]
ابوسائب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے کوئی نماز پڑھی جس میں اس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں۔“ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! (کبھی) میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور فرمایا: ”اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک حصہ میرے لیے ہے اور دوسرا میرے بندے کے لیے، اور میرے بندے کو ہر وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی۔““ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(فاتحہ) پڑھو، بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری تعریف کی۔“ بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ”جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی۔“ بندہ کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ”جو روزِ جزا کا مالک ہے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔“ بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [سورة الفاتحة: 5] ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میرے بندے کو وہ ملے گا جو اس نے مانگا ہے۔“ بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ٭ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 6 - 7] ”ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر تیرا غضب نہیں ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”یہ سب باتیں میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے ہر وہ چیز ہے جو اس نے مانگی۔““ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن ابی داود/الصلاة 135 (821)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 5 (2953)، سنن ابن ماجہ/إقامة 11 (838) (تحفة الأشراف: 14935)، موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد 2/241، 250، 285، 286، 290، 457، 460، 478، 487 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صلاۃ سے مراد سورۃ فاتحہ ہے کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ۲؎: اسی سے مؤلف نے سورۃ فاتحہ میں «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ پڑھنے پر استدلال کیا ہے، حالانکہ یہاں بات صرف یہ ہے کہ ”اصل سورۃ فاتحہ“ تو «الحمد للہ» سے ہے، اور رہا پڑھنا «بسم الله» ‘ تو ہر سورۃ کی شروع میں ہونے کی وجہ سے اس کو تو پڑھنا ہی ہوتا ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے، اس لیے یہاں اس کو نہیں چھیڑا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم