🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} وَكَمِ الْغِنَى:
باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جو لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے“ اور کتنے مال سے آدمی مالدار کہلاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1476
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ» . {لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ}.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ شخص جو بقدر کفایت نہیں پاتا (گویا اس کو غنی نہیں کہہ سکتے) اور (اللہ تعالیٰ نے اسی سورۃ میں فرمایا ہے کہ) صدقہ خیرات تو ان فقراء کے لیے ہے جو اللہ کے راستے میں گھر گئے ہیں۔ کسی ملک میں جا نہیں سکتے کہ وہ تجارت ہی کر لیں۔ ناواقف لوگ انہیں سوال نہ کرنے کی وجہ سے غنی سمجھتے ہیں۔ آخر آیت «فإن الله به عليم» تک (یعنی وہ حد کیا ہے جس سے سوال ناجائز ہو)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: Q1476]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1476
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةَ وَالْأُكْلَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى وَيَسْتَحْيِي أَوْ لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرائیں۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں۔ لیکن اسے سوال سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا (مسکین وہ جو کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1476]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جسے ایک یا دو لقمے ادھر ادھر گھومنے پر مجبور کر دیں بلکہ حقیقی مسکین وہ ہے جو اس قدر مال نہ پائے جو اسے بے نیاز کر دے اور وہ لوگوں سے سوال کرنے میں شرم محسوس کرے یا وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہ کر سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا، قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے ابن اشوع نے ‘ ان سے عامر شعبی نے۔ کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد نے بیان کیا۔ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ انہیں کوئی ایسی حدیث لکھئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، فضول خرچی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1477]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم مجھے ایسی بات لکھ کر ارسال کرو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے جواباً لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کرتا ہے: ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا، مال کو ضائع کرنا اور باکثرت سوال کرنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا؟ , قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا , قَالَ أَوْ مُسْلِمًا؟ , قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي؟، فَقَالَ: إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ"، وَعَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: فَكُبْكِبُوا قُلِبُوا فَكُبُّوا مُكِبًّا، أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ، فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ، قُلْتَ: كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَكَبَبْتُهُ أَنَا.
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں (اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ (جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور (یعقوب بن ابراہیم) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا۔ اور فرمایا۔ سعد! ادھر سنو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ (قرآن مجید میں لفظ) «كبكبوا‏» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا‏» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1478]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ مال دیا اور ایک آدمی کو چھوڑ دیا، اسے کچھ نہ دیا، حالانکہ وہ شخص مجھے سب سے زیادہ پسند تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر گیا اور راز داری کے طور پر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں شخص کو نظر انداز کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن خیال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن نہیں اسے مسلمان کہو۔ میں تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر اس کا وہ حال جو مجھے معلوم تھا مجھ پر غالب آ گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں شخص سے کیوں اعراض کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن خیال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی بجائے مسلمان کہو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پھر کچھ دیر خاموش رہا، لیکن مجھ پر پھر وہ بات غالب آ گئی جو میں اس کے متعلق جانتا تھا، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں شخص کو چھوڑ دیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے بجائے مسلمان کہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی شخص کو مال دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اور اس اندیشے کے پیش نظر دیتا ہوں، مبادا وہ چہرے کے بل دوزخ میں گر جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: اے سعد! متوجہ ہو جاؤ، بے شک میں ایک شخص کو اس لیے دیتا ہوں۔۔۔ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں ﴿فَكُبْكِبُوا﴾ [سورة الشعراء: 94] کے معنی الٹا ڈال دیے جانے کے ہیں، اسی طرح ﴿مُكِبًّا﴾ [سورة الملك: 22] کا لفظ ہے، یہ «أَكَبَّ» سے مشتق ہے، یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اس کا فعل کسی دوسرے پر واقع نہ ہو، یعنی «أَكَبَّ الرَّجُلُ» فعل لازم ہے اور جب کسی دوسرے پر واقع ہو تو «كَبَّهُ اللهُ لِوَجْهِهِ» کہتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اوندھے منہ گرایا اور «كَبَبْتُهُ» کا اردو ترجمہ میں نے اسے گرایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1479]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جو لوگوں کا طواف کرتا پھرے اور ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں اسے ادھر ادھر گردش کراتی رہیں، بلکہ مسکین وہ شخص ہے جو اس قدر مالداری نہ پائے جو اسے بے نیاز کر دے اور کسی کو اس کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ وہ اس پر صدقہ کرے اور نہ وہ کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہی پھرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1480
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ ثُمَّ يَغْدُوَ , أَحْسِبُهُ قَالَ: إِلَى الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبَ فَيَبِيعَ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ: أَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر (میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا) پہاڑوں میں چلا جائے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں فروخت کرے۔ اس سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1480]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی رسی پکڑے اور صبح صبح پہاڑ کی طرف چلا جائے، وہاں لکڑیاں چنے، پھر انہیں فروخت کرے، اس سے کچھ کھائے اور کچھ صدقہ کر دے، یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے۔ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ راوی حدیث صالح بن کیسان، امام زہری رحمہ اللہ سے بڑے ہیں اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا زمانہ پایا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں