🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابُ خَرْصِ التَّمْرِ:
باب: کھجور کا درختوں پر اندازہ کر لینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَلَمَّا جَاءَ وَادِيَ الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: اخْرُصُوا، وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ لَهَا: أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ، فَعَقَلْنَاهَا، وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّءٍ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ، فَلَمَّا أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، قَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟ , قَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ، فَلَمَّا قَالَ ابْنُ بَكَّارٍ كَلِمَةً مَعْنَاهَا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هَذِهِ طَابَةُ، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا , قَالَ: هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ أَوْ دُورُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ , يَعْنِي خَيْرًا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كُلُّ بُسْتَانٍ عَلَيْهِ حَائِطٌ فَهُوَ حَدِيقَةٌ، وَمَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ حَائِطٌ لَمْ يُقَلْ حَدِيقَةٌ.
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے ‘ ان سے عباس بن سہل ساعدی نے ‘ ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ (مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک قدیم آبادی) سے گزرے تو ہماری نظر ایک عورت پر پڑی جو اپنے باغ میں کھڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ اس کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ (کہ اس میں کتنی کھجور نکلے گی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا۔ پھر اس عورت سے فرمایا کہ یاد رکھنا اس میں سے جتنی کھجور نکلے۔ جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے۔ اور جس کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں۔ چنانچہ ہم نے اونٹ باندھ لیے۔ اور آندھی بڑے زور کی آئی۔ ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ تو ہوا نے اسے جبل طے پر جا پھینکا۔ اور ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر اور ایک چادر کا تحفہ بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریری طور پر اسے اس کی حکومت پر برقرار رکھا پھر جب وادی قریٰ (واپسی میں) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی عورت سے پوچھا کہ تمہارے باغ میں کتنا پھل آیا تھا اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازہ کے مطابق دس وسق آیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ جلد جانا چاہتا ہوں۔ اس لیے جو کوئی میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے وہ میرے ساتھ جلد روانہ ہو پھر جب (ابن بکار امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ نے ایک ایسا جملہ کہا جس کے معنے یہ تھے) کہ مدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے طابہ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ دیکھا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں انصار کے سب سے اچھے خاندان کی نشاندہی نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کی کہ ضرور کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا خاندان۔ پھر بنو عبدالاشہل کا خاندان، پھر بنو ساعدہ کا یا (یہ فرمایا کہ) بنی حارث بن خزرج کا خاندان۔ اور فرمایا کہ انصار کے تمام ہی خاندانوں میں خیر ہے ‘ ابوعبداللہ (قاسم بن سلام) نے کہا کہ جس باغ کی چہار دیواری ہو اسے حدیقہ کہیں گے۔ اور جس کی چہار دیواری نہ ہو اسے حدیقہ نہیں کہیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1481]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے باغ میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اندازہ کرو کہ اس میں کتنی کھجوریں ہوں گی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دس وسق اندازہ لگایا، پھر اس عورت سے فرمایا: جتنی کھجوریں پیدا ہوں ان کو وزن کر لینا۔ پھر جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات سخت آندھی آئے گی، اس لیے آج رات کوئی نہ اٹھے اور جس کے پاس اونٹ ہو اسے بھی باندھ دے۔ چنانچہ ہم لوگوں نے اونٹوں کو باندھ دیا، پھر سخت آندھی ہوئی، اتفاق سے ایک شخص کھڑا ہوا تو اسے (تیز ہوا نے) طی نامی پہاڑ پر پھینک دیا۔ اسی جہاد میں ایلہ کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سفید خچر اور اوڑھنے کے لیے ایک چادر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاقے کی حکومت اس کے نام لکھ دی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ لوٹ کر آئے تو آپ نے اس عورت سے پوچھا: تمہارے باغ میں کھجوروں کی کتنی پیداوار رہی؟ اس نے عرض کیا: دس وسق جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگایا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ جلدی جانا چاہتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہے وہ جلدی تیار ہو جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ نظر آنے لگا (ابن بکار نے اس مفہوم کا کلمہ بولا) تو فرمایا: یہ طابہ ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کو دیکھا تو فرمایا: یہ چھوٹا پہاڑ ہے جو ہم کو دوست رکھتا ہے اور ہم اسے دوست رکھتے ہیں۔ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ انصار میں کس کا گھرانہ بہترین ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ بنو نجار کا گھرانہ، اس کے بعد بنو اشہل، پھر بنو ساعدہ کے گھرانے یا بنو حارث بن خزرج کے گھرانے، ویسے تو انصار کے تمام گھرانوں میں خیر اور بھلائی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1482
وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ: حَدَّثَنِي عَمْرٌو، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ.
اور سلیمان بن بلال نے کہا کہ مجھ سے عمرو نے اس طرح بیان کیا کہ پھر بنی حارث بن خزرج کا خاندان اور پھر بنو ساعدہ کا خاندان۔ اور سلیمان نے سعد بن سعید سے بیان کیا ‘ ان سے عمارہ بن غزنیہ نے ‘ ان سے عباس نے ‘ ان سے ان کے باپ (سہل) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1482]
ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو حارث کے گھرانے، پھر بنو ساعدہ کے گھرانے بہتر ہیں۔ ایک روایت میں الفاظ یہ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہر باغ جس کی دیوار ہو وہ «حَدِيْقَة» ہے اور جس کی دیوار نہ ہو اس کو «حَدِيْقَة» نہیں کہا جاتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں