سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر اسی طرح کرتے اور جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف کرنے والے کی بات سن لی“ کہتے تو «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں کے درمیان (سجدے سے اٹھتے اور سجدے کو جاتے وقت) رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 879، (تحفة الأشراف: 6915) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح