سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: قَدْرِ الْقِيَامِ بَيْنَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کرنے کے درمیان قیام کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1066
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1066]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قومہ، آپ کا سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 121 (792)، 127 (801)، 140 (820)، صحیح مسلم/الصلاة 38 (471) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 147 (852، 854)، سنن الترمذی/الصلاة 92 (279، 280)، (تحفة الأشراف: 1781)، مسند احمد 4/280، 285، 288، 294، 298، سنن الدارمی/الصلاة 80 (1372، 1373)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1194، 1333 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ارکان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل اعتدال (اطمینان) کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، صحیحین کی انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد یا دونوں سجدوں کے درمیان اتنا ٹھہرتے کہ کہنے والا یہ تک کہتا (یعنی سوچتا) کہ شاید آپ اگلے رکن میں جانا بھول گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه