صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر صدقہ کا حرام ہونا۔
حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كِخٍ كِخٍ، لِيَطْرَحَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ کی کھجوروں کے ڈھیر سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چھی چھی! نکالو اسے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1491]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھو تھو“ تاکہ وہ اسے پھینک دیں، پھر فرمایا: ”تم جانتے نہیں ہو کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة