🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الإِشَارَةِ، بِأُصْبُعَيْنِ وَبِأَىِّ أُصْبُعٍ يُشِيرُ
باب: دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 105 (3557)، (تحفة الأشراف: 12865)، مسند احمد 2/420، 520 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3557) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي , فَقَالَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں (تشہد میں) اپنی انگلیوں ۱؎ سے (اشارہ کرتے ہوئے) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ایک سے (اشارہ) کرو ایک سے، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں