🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: إِيجَابِ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے وجوب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٌ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا هَكَذَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , وَلَكِنْ قُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز میں تشہد کے فرض کئے جانے سے پہلے «السلام على اللہ السلام على جبريل وميكائيل» سلام ہو اللہ پر، سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر اللہ کی جانب سے سلامتی ہو، اور آپ پر اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1278]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم کہا کرتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ، السَّلَامُ عَلَىٰ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ» اللہ پر سلام ہو۔ جبریل و میکائیل پر سلام ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کہو کیونکہ اللہ عزوجل خود سلام ہے، لیکن یوں کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ ……… وَرَسُولُهُ» تمام آداب (یا قولی عبادات) اور تمام دعائیں اور نمازیں (یا بدنی عبادات) اور پاکیزہ کلمات (یا مالی عبادات) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1166، 1171 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان بن عيينة مدلس وعنعن فى هذا اللفظ. والحديث السابق (1171) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں