صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. بَابُ وَسْمِ الإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِيَدِهِ:
باب: زکوٰۃ کے اونٹوں پر حاکم کا اپنے ہاتھ سے داغ دینا۔
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" غَدَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تحنیک کر دیں۔ (یعنی اپنے منہ سے کوئی چیز چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیں) میں نے اس وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں داغ لگانے کا آلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زکوٰۃ کے اونٹوں پر داغ لگا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1502]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں ایک صبح حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہما کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کچھ چبا کر اس کے منہ میں ڈال دیں تو میں نے آپ کو اس حالت میں پایا کہ آپ کے ہاتھ میں داغ دینے والا ایک آلہ تھا، آپ اس سے زکوٰۃ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة