سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: أَقَلِّ مَا يُجْزِئُ مِنْ عَمَلِ الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کم سے کم کتنا عمل کافی ہو گا؟
حدیث نمبر: 1314
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيّ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ , وَنَحْنُ لَا نَشْعُرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا" , فَقَالَ لَهُ: الرَّجُلُ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي , فَقَالَ:" إِذَا قُمْتَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ فَاطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ، ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے (جواب دینے کے بعد) فرمایا: ”واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے (ابھی بھی) نماز نہیں پڑھی ہے“، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1314]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بغور دیکھنے لگے۔ ہمیں اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ واپس گیا اور دوبارہ نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ دو تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔ آخر وہ آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قسم اس ذات کی جس نے آپ کو عزت بخشی! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، لہٰذا مجھے سکھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے ارادے سے کھڑا ہو تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر اور اطمینان سے رکوع کر، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کرے، پھر سر اٹھا، پھر (ہر رکعت میں) ایسے ہی کر حتیٰ کہ تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، 1137 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمٍّ لَهُ بَدْرِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ , فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ فِي صَلَاتِهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" حَتَّى كَانَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ فَقَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ , لَقَدْ جَهِدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ تَمَّتْ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا , فَإِنَّمَا تَنْتَقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: ”واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: ”واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے (صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1315]
ایک بدری صحابی (حضرت رفاعہ بن رافع) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز میں دیکھتے رہے تھے۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا، دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ واپس گیا، پھر نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو سلام کہا۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ تیسری یا چوتھی دفعہ ہوئی تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب اتاری! میں تو (بار بار نماز پڑھ کر) تھک گیا ہوں، میری خواہش ہے کہ آپ مجھے (نماز پڑھ کر) دکھائیں اور مجھے سکھلا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور بہترین وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ، پھر قرآن (کم از کم فاتحہ) پڑھ، پھر رکوع کر حتیٰ کہ تجھے رکوع میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ سیدھا کھڑا ہو جائے، پھر سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو اطمینان سے بیٹھ جائے، پھر دوسرا سجدہ کر حتیٰ کہ تجھے سجدے میں اطمینان حاصل ہو، پھر سر اٹھا، پھر جب تو اس طریقے سے نماز مکمل کر لے تو تیری نماز مکمل اور صحیح ہو جائے گی۔ اور جو تو ان کاموں میں کمی کرے گا تو یقیناً اپنی نماز ہی میں نقص ڈالے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 668 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1316
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ , فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ , فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے (تہجد کے) لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ جب آپ کو رات میں بیدار کرنا چاہتا بیدار کر دیتا، آپ اٹھ کر مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۱؎، ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، اور دعائیں کرتے، پھر اتنی اونچی آواز میں آپ سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1316]
حضرت سعد بن ہشام رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر (رات کی نفل نماز) کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر مسواک کرتے، وضو فرماتے اور آٹھ رکعات پڑھتے۔ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے لیے نہیں بیٹھتے تھے مگر آٹھویں رکعت کے بعد۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے اور دعائیں پڑھتے۔ پھر اتنی آواز سے سلام کہتے کہ ہم سن لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1191)، (تحفة الأشراف: 16107)، مسند احمد 6/54، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1721، 1722 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ رواۃ میں سے کسی راوی کا وہم ہے جیسا کہ مؤلف آگے چل کر حدیث رقم ۱۶۰۲ میں اس پر تنبیہ کریں گے، صحیح ”نو رکعتیں“ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح