سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ: السَّلاَمِ بِالْيَدَيْنِ
باب: سلام پھیرتے ہوئے دونوں ہاتھ سے اشارہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1327
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ , عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ , إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب ہم سلام پھیرتے تھے تو ہاتھوں کے ساتھ بھی اشارہ کرتے اور کہتے «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“، ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ جب تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے آخر میں) سلام کہے تو اپنے ساتھی کی طرف منہ موڑے۔ ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح