سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. بَابُ: كَمْ مَرَّةً يَقُولُ ذَلِكَ
باب: کتنی بار یہ دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1344
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ وَذَكَرَ آخَرَ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْمُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِب الْمُغِيرَةِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ , أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ , إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“ تین بار کہتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1344]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے ایک ایسی حدیث لکھ دیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: تحقیق میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے فارغ ہونے کے وقت یہ پڑھتے سنا ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ آپ یہ ذکر تین دفعہ پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1342 (شاذ) (اس دعا میں ”تین بار“ کا تذکرہ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة الثلاث
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن. وأصل الحديث متفق عليه (صحيح بخاري: 844،6473،صحيح مسلم: 593) بدون: ’’ثلاث مرات‘‘. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331