سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1345
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَكَانَ مِنَ الْخَائِفِينَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ مَجْلِسًا أَوْ صَلَّى تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ , فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ عَنِ الْكَلِمَاتِ , فَقَالَ:" إِنْ تَكَلَّمَ بِخَيْرٍ كَانَ طَابِعًا عَلَيْهِنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَإِنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ , سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» ”تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1345]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز سے فارغ ہوتے تو کچھ کلمات پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر کسی شخص نے (اس مجلس میں) اچھی باتیں کی ہوں گی تو یہ کلمات قیامت تک کے لیے ان باتوں کے لیے مہر بن جائیں گے اور اگر اس نے اور قسم کی (غلط یا فضول) باتیں کی ہوں گی تو یہ اس کے لیے کفارہ (گناہ مٹانے والے) بن جائیں گے۔ (اور وہ کلمات یہ ہیں): «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک ہے اور تمام تعریفوں اور خوبیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“ (یعنی ہر قسم کی غلطی سے توبہ کرتا ہوں۔)“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16335)، وقد أخرجہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 137 (400)، مسند احمد 6/77 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن مسند احمد (6/ 77) وسنده حسن