سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْ عَدَدِ التَّسْبِيحِ
باب: تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1353
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهَا وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو، ثُمَّ مَرَّ بِهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَقَالَ لَهَا:" مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكِ يَعْنِي كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے (تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں) تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم اب تک اسی حال میں ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» ”اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1353]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے جب کہ وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھی ذکر اذکار کر رہی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے قریب دوبارہ ان کے پاس سے گزرے۔ (وہ اس وقت بھی بیٹھی تھیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس وقت سے اسی حالت میں ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھا دوں جنہیں تم پڑھا کرو: «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» ”اللہ کی تسبیح ہے، اس کی مخلوقات کی تعداد کے برابر۔“ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضَا نَفْسِهِ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس کی رضا مندی کے مطابق۔“ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس کے عرش کے وزن کے مطابق۔“ تین دفعہ، «سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔“ تین دفعہ۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الدعاء 19 (2726)، سنن الترمذی/الدعوات 104 (3555)، سنن ابن ماجہ/الأدب 56 (3808)، (تحفة الأشراف: 15788)، مسند احمد 6/324، 325، 429، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 26 (161، 162) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم