سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ مُبَادَرَةِ الإِمَامِ، بِالاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: امام سے پہلے سلام پھیرنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1364
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ ابْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ:" إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ , فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" , قُلْنَا: مَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی“، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1364]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں تمہارا امام ہوں، لہٰذا رکوع، سجدے، اٹھنے اور سلام پھیرنے میں مجھ سے جلدی نہ کیا کرو۔ میں تمہیں ہر حال میں دیکھتا ہوں، تم آگے ہو یا پیچھے-“ پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم وہ چیزیں دیکھ لو جو میں دیکھ چکا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 25 (426)، (تحفة الأشراف: 1577)، مسند احمد 3/102، 126، 154، 217، 240، 245، 290، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم