سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. بَابُ: الْوَقْتِ الَّذِي يَنْصَرِفُ فِيهِ النِّسَاءُ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے فراغت کے بعد عورتوں کے گھر لوٹنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1363
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ , فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16521)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه