🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: إِيجَابِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. ح وَابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ , وَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ , يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ الْيَهُودُ غَدًا وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیا میں) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور (قیامت میں) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے (یعنی جمعہ کے دن سے) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ۲؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ (سنیچر) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی (یعنی اتوار کی)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1368]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (زمانے کے لحاظ سے) سب سے پیچھے ہیں (مگر مرتبے کے لحاظ سے) سب سے آگے ہیں۔ علاوہ اس بات کے کہ ان (یہود و نصاریٰ) کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ اور یہ (خصوصی عبادت والا) دن ان پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرض کیا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا (یہود نے ہفتے کا دن تجویز کیا اور نصاریٰ نے اتوار کا۔) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن، یعنی جمعہ کے دن تک پہنچایا۔ اب وہ لوگ (عبادت والے دن کے لحاظ سے) ہم سے پیچھے ہیں۔ یہودی ہم سے (یعنی جمعہ کے دن سے) اگلے دن اور عیسائی اس سے اگلے دن (خصوصی عبادت کرتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 12 (896)، أحادیث الأنبیاء 54 (3486)، صحیح مسلم/الجمعة 6 (855)، (تحفة الأشراف: 13522، 13683)، مسند احمد 2/ 249، 274، 341 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کر لیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ۲؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَضَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ , فَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِنَا فَهَدَانَا لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ وَالسَّبْتَ وَالْأَحَدَ , وَكَذَلِكَ هُمْ لَنَا تَبَعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَنَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ".
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں (یہود و نصاریٰ) کو جمعے کا دن اختیار کرنے سے دور رکھا۔ یہودیوں کے لیے ہفتے کا دن مقرر ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا تو اس نے ہمیں جمعے کا دن اختیار کرنے کی توفیق دی۔ اور عبادت کے لیے جمعہ، ہفتہ اور اتوار مقرر کر دیے (اس لحاظ سے وہ ہم سے پیچھے ہیں) اسی طرح قیامت کے دن بھی وہ (یہود و نصاریٰ) ہم سے پیچھے ہوں گے۔ ہم دنیا میں آنے کے لحاظ سے تو سب سے بعد میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے اور پہلے ہوں گے۔ تمام لوگوں سے پہلے ہمارے لیے (جنت میں جانے کا) فیصلہ کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 6 (856)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 78 (1083)، (تحفة الأشراف: 3311) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم (ب) إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں