صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ فَرْضِ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: حج اور عمرہ کی میقاتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ، فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ؟ قَالَ:" فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ , الْجُحْفَةَ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن جبیر نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے۔ وہاں قنات کے ساتھ شامیانہ لگا ہوا تھا (زید بن جبیر نے کہا کہ) میں نے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1522]
زید بن جبیر کہتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ وہاں ان کی قیام گاہ پر خیمے اور قناتیں لگی ہوئی تھیں، میں نے دریافت کیا: میں کہاں سے عمرے کے لیے احرام باندھوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے قرنِ منازل، اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ مقرر فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة