🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: كَيْفَ يَرْفَعُ
باب: استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوائے استسقاء کے اپنے دونوں ہاتھ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے، آپ اس میں اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کرتے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی دعا میں اتنے بلند ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے جتنے دعائے استسقاء میں، آپ اس میں ہاتھ اتنے بلند اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإستسقاء 22 (1031)، المناقب 23 (3565)، الدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الإستسقاء 1 (895)، سنن ابی داود/الصلاة 260 (1170)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 118 (1180)، (تحفة الأشراف: 1168)، مسند احمد 3/ 181، 282، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1576) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ:" يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو".
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے مقام پر بارش کی دعا کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور دعا فرما رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (557)، (تحفة الأشراف: 5)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 260 (1168)، مسند احمد 5/223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: احجار الزیت مدینہ میں ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقَطَّعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَأَجْدَبَ الْبِلَادُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حِذَاءَ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اسْقِنَا"، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أُوسِعْنَا مَطَرًا وَأُمْطِرْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ رَجُلٌ لَا أَدْرِي هُوَ الَّذِي قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقِ: لَنَا أَمْ لَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْقَطَعَتِ السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْأَمْوَالُ مِنْ كَثْرَةِ الْمَاءِ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُمْسِكَ عَنَّا الْمَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا وَلَكِنْ عَلَى الْجِبَالِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ"، قَالَ: وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ تَمَزَّقَ السَّحَابُ حَتَّى مَا نَرَى مِنْهُ شَيْئًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے روز مسجد میں تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! راستے (سفر) ٹھپ ہو گئے، جانور ہلاک ہو گئے، اور علاقے خشک سالی کا شکار ہو گئے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں سیراب کرے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے کے بالمقابل اٹھایا، پھر آپ نے دعا کی: «اللہم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب کر تو قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ زور دار بارش ہونے لگی، اور اس دن سے دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ چنانچہ پھر ایک آدمی کھڑا ہوا (مجھے یاد نہیں کہ یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے کہا تھا یا کوئی دوسرا شخص تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے بند ہو گئے ہیں، اور جانور ہلاک ہو گئے ہیں، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئیے کہ وہ (اب) ہم سے بارش روک لے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللہم حوالينا ولا علينا ولكن على الجبال ومنابت الشجر» اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا، ہم پر نہ برسا، اور پہاڑوں پر اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ بادل پھٹ پھٹ کر (آسمان صاف ہو گیا) یہاں تک کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1516]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم جمعے کے دن مسجد میں تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! راستے منقطع ہو گئے اور جانور ہلاک ہونے لگے اور شہروں میں قحط پڑ گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے، ہمیں بارش عطا فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرۂ مبارک کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» اے اللہ! ہم پر بارش نازل فرما۔ اللہ کی قسم! ابھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم پر خوب زور سے بارش برسنے لگی بلکہ اس دن سے اگلے جمعے تک بارش برستی رہی۔ تو ایک آدمی کھڑا ہوا۔۔۔ میں نہیں جانتا یہ وہی شخص تھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کرنے کو کہا تھا یا کوئی اور۔۔۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پانی کی زیادتی کی وجہ سے راستے منقطع ہو گئے اور جانور مرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بارش روک لے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا» اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش فرما، ہم پر نہ فرما بلکہ پہاڑوں اور جنگلات پر بارش فرما۔ اللہ کی قسم! جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے، بادل چھٹنے لگے حتیٰ کہ ہمیں ایک ٹکڑا بھی نظر نہ آتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1505 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں