سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الصَّلاَةِ قَبْلَ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1562
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، أَنَّ عَلِيًّا اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى النَّاسِ فَخَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَ الْإِمَامِ".
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا، تو (جب) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے: لوگو! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1562]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو (ایک دفعہ) لوگوں پر اپنا نائب مقرر فرمایا، وہ عید کے دن (عید کے لیے) باہر نکلے تو فرمایا: اے لوگو! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں کہ امام (کے نماز عید پڑھانے) سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9978) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن