سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: الْجُلُوسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ وَالسُّكُوتُ فِيهِ
باب: دونوں خطبوں میں بیٹھنے اور اس میں خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا , ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ فِيهَا , ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ خَبَّرَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1584]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ (پہلے) کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر (تھوڑی دیر کے لیے) بیٹھ جاتے اور اس دوران میں (کوئی تقریر یا) بات چیت نہ کرتے، پھر کھڑے ہوجاتے اور دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے، لہٰذا جو شخص تجھے بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس کی تصدیق نہ کر۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 228 (1095)، (تحفة الأشراف: 2197)، مسند احمد 5/90، 97 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ مؤلف کا محض استنباط ہے، جس کی بنیاد عیدین کے خطبہ کو جمعہ کے خطبہ پر قیاس ہے، خاص طور پر عیدین کے خطبہ کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صراحت مروی نہیں ہے، اس لیے بعض علماء جمعہ کے خطبہ پر قیاس کر کے عیدین میں بھی دو خطبے کے قائل ہیں، جب کہ بعض علماء صرف ایک خطبہ کے قائل ہیں، عیدین کے سلسلے میں ایک خطبہ ہی قرین قیاس ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح