سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: اللَّعِبُ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْعِيدِ وَنَظَرُ النِّسَائِ إِلَى ذَلِكَ
باب: عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1596
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود (دیکھنے) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1596]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے مجھے اپنی چادر سے چھپایا ہوا تھا اور میں حبشیوں کو مسجد میں کھیلتے ہوئے دیکھ رہی تھی، حتیٰ کہ میں ہی اکتا گئی۔ ذرا اندازہ لگاؤ ایک نوعمر لڑکی جو کھیل کی بہت شائق ہو، کتنی دیر تک کھڑی دیکھتی رہی ہوگی۔ (آپ اتنی دیر تک اس کے لیے کھڑے رہے۔) [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 114 (5236)، (تحفة الأشراف: 16513)، مسند احمد 6/84، 85 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1597
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّمَا هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑو (کھیلنے دو) یہ ”بنو ارفدہ“ ہی تو ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حبشی مسجد میں (جنگی کھیل) کھیل رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! رہنے دو۔ یہ «بَنُو أَرْفِدَةَ» ”بنوارفدہ“ (حبشی لوگ) ہیں (اور جنگی کھیل کھیلنا ان کی فطرت میں داخل ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13194)، وقد أخرجہ: خ /الجھاد 79 (2901)، صحیح مسلم/العیدین 4 (893)، مسند احمد 2/368، 540 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بنی ارفدہ حبشیوں کا لقب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه