سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: تَرْكِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کی دعا میں دونوں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ" , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , قُلْتُ: سَمِعْتَهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1749]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء (بارش کی دعا) کے علاوہ کسی بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا کہ میں نے (اپنے استاد) ثابت (بنانی) سے کہا: ”کیا آپ نے یہ روایت خود حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ انھوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ میں نے پھر کہا: ”آپ نے سنی ہے؟“ انھوں نے پھر کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ (یعنی کیا بغیر سنے بیان کررہا ہوں؟) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، (تحفة الأشراف: 444)، مسند احمد 3/184، 209، 216، 259 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله قال شعبة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم