🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. بَابُ: الدُّعَاءِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کی دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1746
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ , وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ , وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ , وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ , وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ , وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ , تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی کی قنوت میں کہتا ہوں، وہ یہ ہیں: «اللہم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1746]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھلائے جنہیں میں قنوتِ وتر میں پڑھا کرتا ہوں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے عافیت دی ہے، میرا ولی بن جا ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کا تو ولی بنا، اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تو نے عطا فرمائیں، اور مجھے اس فیصلے کے شر سے بچا جو تو نے فرما رکھا ہے، یقیناً تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور یقیناً وہ شخص ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو ولی ہو، اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 340 (1425، 1426)، سنن الترمذی/الصلاة 224 (الوتر 10) (464)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 117 (1178)، (تحفة الأشراف: 3404)، مسند احمد 1/199، 200، سنن الدارمی/الصلاة 214 (1632) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فِي الْوِتْرِ , قَالَ: قُلْ" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ , وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ , وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ , وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ , فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ , وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ , تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ , وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد» ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1747]
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات وتر میں پڑھنے کے لیے سکھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہہ: «اللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ» اے اللہ! مجھے راہ راست پر چلا ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے راہ راست پر چلایا اور رکھا۔ اور مجھے عافیت عطا فرما ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے عافیت دی۔ اور میرا ولی ہو ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کا تو ولی ہوا۔ اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تو نے عطا فرمائیں اور مجھے اس فیصلے کے شر اور نقصان سے بچا جو تو نے فرمایا، کیونکہ تو (جو چاہے) فیصلے فرماتا ہے لیکن تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور بلاشبہ وہ شخص ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو ولی ہو۔ اے ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح) (لیکن ’’وصلی اللہ …کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ’’عبداللہ بن علی زین العابدین‘‘ لین الحدیث ہیں، اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبداﷲ بن على لم يدرك الحسن بن على رضي اللّٰه عنهما كما فى التهذيب (5/ 284). وأخرج ابن خزيمة (1100) بإسناد صحيح عن أبى بن كعب: كان يقنت فى قيام رمضان بأمر عمر رضي اللّٰه عنهما ثم يصلي على النبى ﷺ،إلخ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , وَهِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1748]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر نماز کے آخر میں یہ الفاظ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ! میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے تیری رضامندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی اور عافیت کی پناہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے ڈرتے ہوئے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری مکمل تعریف نہیں کر سکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 340 (1427)، سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 117 (1179)، (تحفة الأشراف: 10207)، مسند احمد 1/96، 118، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں