🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: مَا يُلْقَى بِهِ الْمُؤْمِنُ مِنَ الْكَرَامَةِ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِهِ
باب: روح نکلتے وقت مومن کی عزت و تکریم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1834
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ , فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ , فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ، فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں، اور (اس کی روح سے) کہتے ہیں: نکل، تو اللہ سے راضی ہے، اور اللہ تجھ سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور (اپنے) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی، ہے یہاں تک کہ (فرشتے) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، (جب) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو (دربان) کہتے ہیں: کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے، (پھر) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آ جانے سے بڑھ کر ہوتی ہے، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے: فلاں کیسے ہے، اور فلاں کیسے ہے؟ وہ کہتی ہیں: انہیں چھوڑو، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے، تو جب وہ (نووارد روح) کہتی ہے: کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ (وہ تو مر گیا تھا) تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں، (اور) کہتے ہیں: اللہ کے عذاب کی طرف نکل، تو اللہ سے ناراض ہے، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں (پھر) کہتے ہیں: کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر (چھوڑ دیتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1834]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کو موت آنے لگتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی لباس لے کر اس کے پاس آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: اے مومن روح! نکل آ، تو اللہ تعالیٰ سے راضی اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی، اور چل اللہ کی رحمت و مہربانی کی طرف اور پہنچ ایسے رب کے پاس جو تجھ پر قطعاً ناراض نہیں ہے، تو وہ انتہائی خوشبودار، پاکیزہ کستوری جیسی مہک کے ساتھ نکل آتی ہے حتیٰ کہ فرشتے (خوشی اور سرور سے) اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے (ہاتھوں ہاتھ لیتے) ہیں اور اسی طرح وہ اسے آسمان کے دروازے تک لے جاتے ہیں۔ آسمان والے فرشتے کہتے ہیں: کس قدر خوشبودار ہے یہ روح جو تم زمین سے لائے ہو! پھر وہ اسے (پہلے سے فوت شدہ) مومنین کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اس کے آنے پر اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ تم اپنے کسی غائب شخص کے آنے پر اتنے خوش نہیں ہوتے، پھر وہ (پہلے سے موجود مومن) اس سے پوچھتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ پھر وہ (آپس میں) کہتے ہیں: چھوڑو اسے، وہ تو دنیا کے غم و فکر میں تھا، جب وہ روح کہتی ہے کہ کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ (یعنی وہ تو کب کا مر چکا ہے) تو وہ کہتے ہیں: اوہو! اسے اس کے جہنمی ٹھکانے کی جانب لے جایا گیا ہے۔ (اس کے مقابلے میں) جب کافر کو موت آتی ہے تو عذاب کے فرشتے گندا بدبودار ٹاٹ لے کر اس کے پاس آ جاتے ہیں اور (غصے سے) کہتے ہیں: نکل ادھر، تو بھی ناراض اور تیرا اللہ بھی تجھ پر ناراض، چل اللہ عزوجل کے عذاب کی طرف، تو وہ انتہائی بدبودار مردار لاش کے بھبھوکے کے ساتھ نکلتی ہے حتیٰ کہ وہ اسے زمین کے دروازے پر لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں: کس قدر بدبودار ہے یہ! حتیٰ کہ وہ اسے (پہلے سے مرے ہوئے) کافروں کی روحوں میں لے جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وأحاديث مسلم (2872) والبيهقي (اثبات عذاب القبر بتحقيقي: 1933) تغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں