سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ , وَالْقَلْبَ مُصَابٌ , وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں سے ایک شخصیت فوت ہو گئی تو عورتیں اکٹھی ہو کر رونے لگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر انہیں روکنے اور ان کو منتشر کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! رہنے دو، آنکھوں سے آنسو گر ہی آتے ہیں، دل میں صدمہ ہوتا ہی ہے اور ابھی وفات تازہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1587)، (تحفة الأشراف: 13475)، مسند احمد 2/110، 273، 408 (ضعیف) (اس کے راوی ’’سلمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1587) سلمة : مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336