سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
باب: جاہلیت کی چیخ پکار اور رونا دھونا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ" وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَى.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے)“۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (کسی مصیبت پر) رخساروں پر تھپڑ مارتا ہے، گریبان پھاڑتا ہے یا دور جاہلیت کی پکار پکارتا (نوحہ کرتا) ہے۔“ یہ الفاظ (امام نسائی رحمہ اللہ کے استاد) علی (بن خشرم) نے بیان کیے ہیں، جبکہ (امام صاحب کے دوسرے استاد) حسن (بن اسماعیل) «بِدُعَاءٍ» کی بجائے «بِدَعْوَىٰ» کے الفاظ بیان کرتے ہیں (جبکہ معنی و مفہوم ایک ہی ہے، صرف الفاظ کا فرق ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، 38 (1297)، 39 (1298)، والمناقب 8 (3519)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584)، (تحفة الأشراف: 9569)، مسند احمد 1/432، 442، 456 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه