سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ
باب: صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ , وَقَالَ: مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ".
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
حضرت عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین کو ان کے ایک فوت ہونے والے بیٹے کی تعزیت کرتے ہوئے (خط) لکھا کہ میں نے اپنے والد محترم (حضرت شعیب) کو اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بیان فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے جگر گوشے کو اپنے پاس بلا لے، اور وہ اس پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس (مصیبت کے بدلے) ثواب طلب کرے اور وہی بات منہ سے نکالے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت سے کم کوئی بدلہ اس کے لیے پسند نہیں فرماتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح