سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: مَكَانِ الْمَاشِي مِنَ الْجَنَازَةِ
باب: پیدل چلنے والا جنازہ کے کس طرف رہے؟
حدیث نمبر: 1945
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَمِّهِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا (آگے پیچھے دائیں بائیں) جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1945]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جہاں چاہے چلے، اور نومولود بچے کا جنازہ پڑھا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1944 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1946
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَقُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1946]
حضرت سالم کے والد محترم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (3179)، سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007، 1008)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1482)، (تحفة الأشراف: 6820)، موطا امام مالک/الجنائز 3 (8) (مرسلاً)، مسند احمد 2/8، 122 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1947
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَنْصُورٌ , وَزِيَادٌ , وَبَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ، كُلُّهُمْ ذَكَرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنَ الزُّهْرِيِّ يُحَدِّثُ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ" , بَكْرٌ وَحْدَهُ لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے (پیدل) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔ روایت کے راویوں میں سے اکیلے بکر راوی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت (موصول) غلط ہے اور مرسل صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن