🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1971
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ , فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ:" إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا" , فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ , قَالَ:" فَانْطَلِقُوا" فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، (رات) ہم آپ کے پاس آئے (بھی) تھے، (لیکن) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: چلو! (اور) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھائی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک مسکین عورت (مدینے کے مضافات) عوالی میں بیمار ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اس (کی صحت) کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے، نیز آپ نے فرمایا: اگر وہ فوت ہو جائے تو اسے دفن نہ کرنا یہاں تک کہ میں اس کا جنازہ پڑھوں۔ آخر وہ فوت ہو گئی تو لوگ اس کا جنازہ لے کر عشاء کے بعد مدینہ منورہ میں آئے لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتے پایا۔ انہوں نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا، خود ہی جنازہ پڑھا اور اسے بقیعِ غرقد میں دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو دفن بھی ہو چکی۔ ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے مگر ہم نے آپ کو سوتے پایا اور آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: چلو۔ آپ چلے۔ وہ لوگ بھی آپ کے ساتھ چلے حتیٰ کہ انہوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبر کے سامنے) کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ (آپ کے حکم سے) آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہو گئے۔ آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1908 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں